بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 507 — باب: خطبہ کے درمیانی ہونے کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل باب: خطبہ کے درمیانی ہونے کا بیان۔ حدیث 507
قُتَيْبَةُ ، وَهَنَّادٌ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: " كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتا تھا تو آپ کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانا ہوتا تھا۔ (یعنی زیادہ لمبا نہیں ہوتا تھا)
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمار بن یاسر اور ابن ابی اوفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجمعة 13 (866)، سنن ابی داود/ الصلاة 229 (1101)، سنن النسائی/العیدین 26 (1585)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 85 (1106)، (تحفة الأشراف: 2167)، مسند احمد (5/91، 93-95، 98، 100، 102)، سنن الدارمی/الصلاة 199 (1598) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1106)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1106)
← پچھلی حدیث (506) باب پر واپس اگلی حدیث (508) →