بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 5 — باب: بیت الخلاء (پاخانہ) میں داخل ہونے کے وقت کی دعا​۔
کتب جامع ترمذی کتاب: طہارت کے احکام و مسائل باب: بیت الخلاء (پاخانہ) میں داخل ہونے کے وقت کی دعا​۔ حدیث 5
قُتَيْبَةُ ، وَهَنَّادٌ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , وَهَنَّادٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ" قَالَ شُعْبَةُ: وَقَدْ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبِيثِ" أَوْ" الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ , وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ , وَجَابِرٍ , وَابْنِ مَسْعُودٍ. قال أبو عيسى: حَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، وَحَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ، رَوَى هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ , وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، فَقَالَ سَعِيدٌ: عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وقَالَ هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ , وَمَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، فَقَالَ شُعْبَةُ: عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَقَالَ مَعْمَرٌ: عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ: يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ قَتَادَةُ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے پاخانہ میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبيث أو الخبث والخبائث» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاکی سے اور ناپاک شخص سے، یا ناپاک جنوں سے اور ناپاک جنیوں سے ۱؎۔ شعبہ کہتے ہیں: عبدالعزیز نے دوسری بار «اللهم إني أعوذ بك» کے بجائے «أعوذ بالله» کہا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں علی، زید بن ارقم، جابر اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۲- انس رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح اور عمدہ ہے،
۳- زید بن ارقم کی سند میں اضطراب ہے، امام بخاری کہتے ہیں: کہ ہو سکتا ہے قتادہ نے اسے (زید بن ارقم سے اور نضر بن انس عن أبیہ) دونوں سے ایک ساتھ روایت کیا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 5]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 9 (142) والدعوات 15 (6322) صحیح مسلم/الحیض 32 (375) سنن ابی داود/ الطہارة 3 (4) سنن النسائی/الطہارة 18 (19) سنن ابن ماجہ/الطہارة 9 (298) (تحفة الأشراف: 1022) مسند احمد (3/101/282) سنن الدارمی/الطہارة9 (696) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مذکورہ دعا پاخانہ میں داخل ہونے سے پہلے پڑھنی چاہیئے، اور اگر کوئی کھلی فضا میں قضائے حاجت کرنے جا رہا ہو تو رفع حاجت کے لیے بیٹھتے ہوئے کپڑا اٹھانے سے پہلے یہ دعا پڑھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (298)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (298)
← پچھلی حدیث (4) باب پر واپس اگلی حدیث (6) →