هَنَّادٌ ، وَقُتَيْبَةُ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، أَبِي إِسْحَاق ، أَبِي حَيَّةَ ، عَلِيًّا
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , وَقُتَيْبَةُ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قَالَ: " رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا , وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا , وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا , وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا , وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً , ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ , ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالرُّبَيِّعِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، وَعَائِشَةَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچے دھوئے یہاں تک کہ انہیں خوب صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی چڑھایا، تین بار اپنا چہرہ دھویا اور ایک بار اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور وضو سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے کھڑے پی لیا
۱؎، پھر کہا: میں نے تمہیں دکھانا چاہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا وضو کیسے ہوتا تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں عثمان، عبداللہ بن زید، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، ربیع، عبداللہ بن انیس اور عائشہ رضوان اللہ علیہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 48] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر رقم: 44 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: صحیح بخاری کی روایت میں یہ بھی ہے کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو جائز نہیں سمجھتے، حالانکہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا جیسا کہ میں نے کیا ہے، اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، ۱- کھڑے ہو کر کبھی کبھی پانی پینا جائز ہے، ۲- وضو سے بچے ہوئے پانی میں برکت ہوتی ہے اس لیے آپ نے اسے پیا اور کھڑے ہو کر پیا تاکہ لوگ یہ عمل دیکھ لیں، نہ یہ کہ وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر ہی پینا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، صحيح أبي داود (101 - 105)
الحكم: صحيح، صحيح أبي داود (101 - 105)