أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/أبواب الوتر/حدیث: 467] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 20 (750)، سنن ابی داود/ الصلاة 343 (1436)، (تحفة الأشراف: 8132)، مسند احمد (2/37، 38) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ وتر کا وقت طلوع فجر سے پہلے تک ہے جب فجر طلوع ہو گئی تو ادائیگی وتر کا وقت نکل گیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (2 / 154) ، صحيح أبي داود (1290)
الحكم: صحيح، الإرواء (2 / 154) ، صحيح أبي داود (1290)