بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 3960 — (روایت بالمعنی کا جواز اور اس کی شروط)
کتب جامع ترمذی کتاب: کتاب العلل (روایت بالمعنی کا جواز اور اس کی شروط) حدیث 3960

Q3960 Q3960 Q3960 Q3960 Q3960 Q3960 Q3960 Q3960 Q3960 حوالہ جات (References)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلائِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ قَالَ: إِذَا حَدَّثْنَاكُمْ عَلَى الْمَعْنَى؛ فَحَسْبُكُمْ.
‏‏‏‏ واثلہ بن الاسقع کہتے ہیں: جب ہم تم سے حدیث بالمعنی روایت کر دیں تو یہ تمہارے لیے کافی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ الْحَدِيثَ مِنْ عَشَرَةٍ؛ اللَّفْظُ مُخْتَلِفٌ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ.
‏‏‏‏ محمد بن سیرین کہتے ہیں: حدیث کو میں دس مختلف سیاق سے سنتا تھا اور سب کا معنی ایک ہوتا تھا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَالْحَسَنُ، وَالشَّعْبِيُّ يَأْتُونَ بِالْحَدِيثِ عَلَى الْمَعَانِي.
‏‏‏‏ ابن عون کہتے ہیں: ابراہیم نخعی، حسن بصری اور شعبی بالمعنی حدیث روایت کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
وَكَانَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، وَرَجَائُ بْنُ حَيْوَةَ يُعِيدُونَ الْحَدِيثَ عَلَى حُرُوفِهِ.
‏‏‏‏ اور قاسم بن محمد، محمد بن سیرین اور رجاء بن حیوہ حدیث کو اس کے اپنے الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، قَالَ: قُلْتُ لأَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ: إِنَّكَ تُحَدِّثُنَا بِالْحَدِيثِ، ثُمَّ تُحَدِّثُنَا بِهِ عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثْتَنَا؟! قَالَ: عَلَيْكَ بِالسَّمَاعِ الأَوَّلِ.
‏‏‏‏ عاصم الأحول کہتے ہیں: میں نے ابوعثمان نہدی سے کہا کہ آپ ہم سے ایک بار حدیث بیان کرتے ہیں، پھر دوبارہ اس کی روایت کرتے ہیں تو وہ پہلے سے مختلف ہوتی ہے؟ عرض کیا: جو پہلی بار سنا ہے اس کو لے لو۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حَدَّثَنَا الجارودُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيْعٌ، عن الرَّبيعِ بن صَبيحٍ، عن الحسنِ قال: إذا أصبتَ المعنى أجزأكَ.
‏‏‏‏ حسن بصری کہتے ہیں: معنی اگر ٹھیک روایت کر دو تو یہ تمہارے لیے کافی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَيْفٍ -هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ- قَال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: أَنْقِصْ مِنْ الْحَدِيثِ إِنْ شِئْتَ، وَلا تَزِدْ فِيهِ.
‏‏‏‏ سیف بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد کو کہتے سنا: اگر چاہو تو حدیث بیان کرنے میں کمی کر دو، لیکن اس میں زیادتی نہ کرو۔ (یعنی اپنی طرف سے اضافہ نہ کرو، مختصر روایت کرو، یا بعض فقرآت روایت کرو)۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فَقَالَ: إِنْ قُلْتُ لَكُمْ: إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ كَمَا سَمِعْتُ فَلا تُصَدِّقُونِي، إِنَّمَا هُوَ الْمَعْنَى.
‏‏‏‏ سفیان ثوری کہتے ہیں: اگر میں یہ کہوں کہ میں تم سے بعینہ ویسے ہی روایت کرتا ہوں جیسے میں نے سنا ہے، تو میری تصدیق نہ کرو، یہ روایت بالمعنی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَال: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ: إِنْ لَمْ يَكُنْ الْمَعْنَى وَاسِعًا فَقَدْ هَلَكَ النَّاسُ.
‏‏‏‏ وکیع کہتے ہیں: اگر بالمعنی روایت کی گنجائش نہ ہو تو لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3960]
حدیث نمبر: 3960 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
فَأَمَّا مَنْ أَقَامَ الإِسْنَادَ وَحَفِظَهُ وَغَيَّرَ اللَّفْظَ؛ فَإِنَّ هَذَا وَاسِعٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا لَمْ يَتَغَيَّرْ الْمَعْنَى.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ تو جس نے سند صحیح ذکر کی اور اسے یاد رکھا، اور الفاظ میں تبدیلی کر دی تو معنی نہ بدلنے کی صورت میں ایسا کرنے کی اہل علم کے نزدیک گنجائش ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: 3960]
← پچھلی حدیث (3959) باب پر واپس اگلی حدیث →