بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 3947 — باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
کتب جامع ترمذی کتاب: فضائل و مناقب باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان حدیث 3947
حدیث نمبر: 3947 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلَاذٍ ، نُمَيْرِ بْنِ أَوْسٍ ، مَالِكِ بْنِ مَسْرُوحٍ ، عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَبِيهِ ، مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلَاذٍ يُحَدِّثُ، عَنْ نُمَيْرِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَسْرُوحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الْحَيُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرِوُنَ، لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ، هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ "، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: لَيْسَ هَكَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ "، فَقُلْتُ: لَيْسَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبِي وَلَكِنَّهُ حَدَّثَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ "، قَالَ: فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيكَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، وَيُقَالُ: الْأَسْدُ هُمْ الْأَزْدُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوعامر اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا ہی اچھے ہیں قبیلہ اسد اور قبیلہ اشعر کے لوگ، جو لڑائی سے بھاگتے نہیں اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرتے ہیں، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے اسے معاویہ رضی الله عنہ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں فرمایا، بلکہ آپ نے یہ فرمایا کہ وہ مجھ سے ہیں اور میری طرف ہیں، تو میں نے عرض کیا: میرے باپ نے مجھ سے اس طرح نہیں بیان کیا، بلکہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: تو تم اپنے باپ کی حدیثوں کے زیادہ جانکار ہو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف وہب بن جریر کی روایت سے جانتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اسد قبیلہ اسد ہی کے لوگ ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12066) وانظر مسند احمد (4/129) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن ملاذ مجہول راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، الضعيفة (4692) // ضعيف الجامع الصغير (5963) //
الحكم: ضعيف، الضعيفة (4692) // ضعيف الجامع الصغير (5963) //
← پچھلی حدیث (3946) باب پر واپس اگلی حدیث (3948) →