عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: " إِنْ لَمْ نَكُنْ مِنَ الْأَزْدِ، فَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر ہم ازدی (یعنی قبیلہ ازد کے) نہ ہوں تو ہم آدمی ہیں ہی نہیں
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3938] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«(صحیح) تحفة الأحوذی (4196/10/304) کے نسخے میں یہ حدیث ہے، اور مکتبة المعارف کے نسخے اور تحفة الأشراف میں یہ حدیث نہیں ہے)»
وضاحت
۱؎: یعنی ہم مکمل انسان نہ ہوتے، انس رضی الله عنہ قبیلہ انصار کے تھے، اور سارے انصار قبیلہ ازد کے ہیں، اور یہ قبیلہ یمن سے حجاز آیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد موقوف
الحكم: صحيح الإسناد موقوف