قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، عُقَيْلٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ ابْنِ حَمْرَاءَ الزُّهْرِيِّ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ ابْنِ حَمْرَاءَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى الْحَزْوَرَةِ , فَقَالَ: " وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ ابْنِ حَمْرَاءَ، عِنْدِي أَصَحُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عدی بن حمراء زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو
«حزوراء» (چھوٹا ٹیلہ) پر کھڑے دیکھا، آپ نے فرمایا:
”قسم اللہ کی! بلاشبہ تو اللہ کی سر زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمینوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب سر زمین ہے، اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا تو میں نہ نکلتا
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے،
۲- اسے یونس نے بھی زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسے محمد بن عمرو نے بطریق:
«أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» روایت کیا ہے، اور زہری کی حدیث جو بطریق:
«أبي سلمة عن عبد الله بن عدي ابن حمراء» آئی ہے وہ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3925] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المناسک 103 (3108) (تحفة الأشراف: 6641) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث نیز مسجد الحرام مکہ میں نماز کے اجر و ثواب والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے، کہ مکہ: مدینہ سے افضل ہے، یہی محققین کا قول ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (3108)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (3108)