بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 3885 — باب: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
کتب جامع ترمذی کتاب: فضائل و مناقب باب: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان حدیث 3885
حدیث نمبر: 3885 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَاللَّفْظُ لِابْنِ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ , قَالَ: فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: " عَائِشَةُ "، قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: " أَبُوهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں لشکر ذات السلاسل کا امیر مقرر کیا، وہ کہتے ہیں: تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ، میں نے پوچھا: مردوں میں کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ان کے باپ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3662)، والمغازي 63 (4358)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 1 (2384) (تحفة الأشراف: 10738) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: پیچھے فاطمہ رضی الله عنہا کے مناقب میں گزرا ہے کہ عورتوں میں فاطمہ اور مردوں میں ان کے شوہر علی رضی الله عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو زیادہ محبوب تھے، لیکن وہ حدیث ضعیف منکر ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے، اور دونوں عورتوں اور دونوں مردوں کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زیادہ محبوب ہونے میں تضاد ہی کیا ہے، یہ سب سے زیادہ محبوب تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3884) باب پر واپس اگلی حدیث (3886) →