أَبُو عَمَّارٍ ، الْوَلِيدُ ، أَبُو مُحَمَّدٍ رَجَاءٌ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ رَجَاءٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ، قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ وَيُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، فَسَكَتَ عَنِّي مَلِيًّا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً "
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی الله عنہ سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے اور مجھے جنت میں داخل کرے، تو وہ کافی دیر تک خاموش رہے پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم کثرت سے سجدے کیا کرو ۱؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو بھی بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا“۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 43 (488)، سنن النسائی/التطبیق 80 (1140)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 201 (1423)، (تحفة الأشراف: 2112)، مسند احمد (2765، 280، 283) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی: زیادہ سے زیادہ نفل نمازیں پڑھا کرو، اور ظاہر بات ہے کہ زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھے گا تو ان میں زیادہ سے زیادہ رکوع اور سجدے ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1423)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1423)