هَنَّادٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ هُوَ السَّلْمَانِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ هُوَ السَّلْمَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَاتِهِمْ أَوْ شَهَادَاتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ ". وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَبُرَيْدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے
۱؎، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد ہیں
۲؎، پھر ان کا جو ان کے بعد ہیں
۳؎، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو گواہیوں سے پہلے قسم کھائے گی یا قسموں سے پہلے گواہیاں دے گی
“ ۴؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمر، عمران بن حصین اور بریدہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3859] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الشھادات 9 (2652)، وفضائل الصحابة 1 (3651)، والأیمان والنذور 10 (6429)، والرقاق 7 (6658)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 52 (2533)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 27 (2362) (تحفة الأشراف: 9403)، و مسند احمد (1/378، 417، 434) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا زمانہ جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں تھے، ان کا عہد ایک قرن ہے، جو ایک ہجری کے ذرا سا بعد تک ممتد ہے، آخری صحابی (واثلہ بن اسقع) کا اور انس رضی الله عنہ کا انتقال ۱۱۰ھ میں ہوا تھا۔
۲؎: یعنی تابعین رحمہم اللہ۔
۳؎: یعنی: اتباع تابعین رحمہم اللہ ان کا زمانہ سنہ ۲۲۰ھ تک ممتد ہے (بعض علماء نے ان تین قرون سے: عہد صدیقی، عہد فاروقی اور عہد عثمانی مراد لیا ہے، کہ عہد عثمانی کے بعد فتنہ و فساد کا دور دورہ ہو گیا تھا، واللہ اعلم۔
۴؎: یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے، ہر وقت اس کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے، یہ باتیں اتباع تابعین کے بعد عام طور سے مسلمانوں میں پیدا ہو گئی تھیں۔ قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2362)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2362)