بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ ، عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَبُو خَلْدَةَ ، أَبُو الْعَالِيَةِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِمَّنْ أَنْتَ؟ " , قَالَ: قُلْتُ: مِنْ دَوْسٍ، قَالَ: " مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ فِي دَوْسٍ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ: خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ , وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ: رُفَيْعٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”تم کس قبیلہ سے ہو؟
“ میں نے عرض کیا: میں قبیلہ دوس کا ہوں، آپ نے فرمایا:
”میں نہیں جانتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسا آدمی بھی ہو گا جس میں خیر ہو گی
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3838] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12894) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
الحكم: صحيح الإسناد