مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، شَرِيكٍ ، عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: رُبَّمَا قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ "، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: يَعْنِي يُمَازِحُهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے کہتے:
”اے دو کانوں والے
“۔ ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3828] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 1192 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
الحكم: صحيح