مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاق ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: أَتَيْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مَنْ أَقْرَبُ النَّاسِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا وَدَلًّا فَنَأْخُذَ عَنْهُ وَنَسْمَعَ مِنْهُ، قَالَ: " كَانَ أَقْرَبُ النَّاسِ هَدْيًا , وَدَلًّا , وَسَمْتًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى يَتَوَارَى مِنَّا فِي بَيْتِهِ، وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ هُوَ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ زُلْفَى "، قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی الله عنہ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتائیے کہ لوگوں میں چال ڈھال میں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب سے قریب کون ہے کہ ہم اس کے طور طریقے کو اپنائیں، اور اس کی باتیں سنیں؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگوں میں چال ڈھال اور طور طریقے میں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب سے قریب ابن مسعود رضی الله عنہ ہیں، یہاں تک کہ وہ ہم سے اوجھل ہو کر آپ کے گھر کے اندر بھی جایا کرتے تھے، اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب کو جو کسی طرح کی تحریف یا نسیان سے محفوظ ہیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ ام عبد کے بیٹے یعنی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ ان سب میں اللہ سے سب سے نزدیک ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3807] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/فضائل الصحابة 27 (3762) (تحفة الأشراف: 3374) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی لوگ جو بیان کریں گے وہ بالکل حقیقت کے مطابق ہو گا، اور انہوں نے یہ بیان کیا کہ ابن مسعود رضی الله عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طور طریقے سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اور ان سے ازحد قریب تھے، یہ صحابہ کی زبان سے ابن مسعود کی فضیلت کا اعتراف ہے۔
الحكم: صحيح