بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 3787 — باب: اہل بیت کے مناقب کا بیان
کتب جامع ترمذی کتاب: فضائل و مناقب باب: اہل بیت کے مناقب کا بیان حدیث 3787
حدیث نمبر: 3787 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ ، يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ رَبِيبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ , وَحَسَنًا , وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ , وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا"، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ إِلَى خَيْرٍ". قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَأَبِي الْحَمْرَاءِ، وَأَنَسٍ، قَالَ: وَهَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے «ربيب» (پروردہ) عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» اے اہل بیت النبوۃ! اللہ چاہتا ہے کہ تم سے (کفر و شرک) کی گندگی دور کر دے، اور تمہاری خوب تطہیر کر دے [ الاحزاب: ۳۳ ] ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اتریں تو آپ نے فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا اور آپ نے انہیں ایک چادر میں ڈھانپ لیا اور علی رضی الله عنہ آپ کی پشت مبارک کے پیچھے تھے تو آپ نے انہیں بھی چادر میں چھپا لیا، پھر فرمایا: «اللهم هؤلاء أهل بيتي فأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں تو ان کی ناپاکی کو دور فرما دے اور انہیں اچھی طرح پاک کر دے، ام سلمہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی جگہ پر رہ اور تو بھی نیکی پر ہے۔‏‏‏‏
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے،
۲- اس باب میں ام سلمہ، معقل بن یسار، ابوحمراء اور انس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3787]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 3205 (صحیح)»
وضاحت
۲؎: اس آیت کے سیاق و سباق اور سبب نزول سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ اہل البیت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات مراد ہیں یا اس حدیث سے ازواج مطہرات کے علاوہ علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی الله عنہم کے بھی اہل بیت میں ہونے کی بات ثابت ہوتی ہے، اور دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح مضى برقم (3425)
الحكم: صحيح مضى برقم (3425)
← پچھلی حدیث (3786) باب پر واپس اگلی حدیث (3788) →