مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منبر پر چڑھ کر فرمایا:
”میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اور
«ابني هذا» سے مراد حسن بن علی ہیں رضی الله عنہما۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3773] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلح 9 (2704)، والمناقب 25 (3629)، وفضائل الصحابة 22 (3746)، والفتن 20 (7109)، سنن ابی داود/ السنة 13 (4662)، سنن النسائی/الجمعة 27 (1411) (تحفة الأشراف: 11658)، و مسند احمد (5/37، 44، 49، 51) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی میرا یہ نواسہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کا سبب بنے گا، چنانچہ خلافت کے مسئلہ کو لے کر جب مسلمانوں کے دو گروہ ہو گئے، ایک گروہ معاویہ رضی الله عنہ کے ساتھ اور دوسرا حسن رضی الله عنہ کے ساتھ تھا، تو حسن رضی الله عنہ نے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر کے مسلمانوں کو قتل و خونریزی سے بچا کر اس امت پر بڑا احسان کیا اور یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے «جزاہ اللہ عن المسلمین خیر الجزاء» ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الروض النضير (923) ، الإرواء (1597)
الحكم: صحيح، الروض النضير (923) ، الإرواء (1597)