مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، سُفْيَانَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَسَنُ , وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4134)، و مسند احمد (3/3، 22، 64، 80) (صحیح) (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم 796)»
وضاحت
۱؎: ”جنت میں جوانوں کے سردار“ اس کے محدثین نے کئی معانی بیان کئے ہیں، (۱) جو لوگ جوانی کی حالت میں وفات پائے (اور جنتی ہیں) ان کے سردار یہ دونوں ہوں گے، اس بیان کے وقت وہ دونوں جوان تھے، شہادت جوانی کے بعد حالت کہولت میں ہوئی، لیکن جوانی کی حالت میں وفات پانے والوں کے سردار بنا دیئے گئے ہیں (۲) جنت میں سبھی لوگ جوانی کی عمر میں کر دیئے جائیں گے، اس لیے مراد یہ ہے کہ انبیاء اور خلفائے راشدین کے سوا دیگر لوگوں کے سردار یہ دونوں ہوں گے (۳) اس زمانہ کے (جب یہ دونوں جوان تھے) ان جوانوں کے یہ سردار ہیں جو مرنے کے بعد جنت میں جائیں گے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (796)
الحكم: صحيح، الصحيحة (796)