أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، الزُّبَيْرِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ، فَنَهَضَ إِلَى صَخْرَةٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ , فَأَقْعَدَ تَحْتَهُ طَلْحَةَ، فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَوْجَبَ طَلْحَةُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو زرہیں پہنے ہوئے تھے، آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے لیکن چڑھ نہ سکے تو اپنے نیچے طلحہ کو بٹھایا اور چڑھے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے، تو میں نے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
”طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کر لی
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3738] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 1692 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اپنے اس فدائیانہ و فدویانہ عمل کے طفیل طلحہ رضی الله عنہ جنت کے حقدار قرار دئیے گئے، یعنی دنیا ہی میں ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان مبارک سے جنت کی بشارت مل گئی۔
قال الشيخ الألباني
حسن مضى برقم (1759)
الحكم: حسن مضى برقم (1759)