مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا عُثْمَانُ إِنَّهُ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا , فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ ". وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”اے عثمان! شاید اللہ تمہیں کوئی کرتا
۱؎ پہنائے، اگر لوگ اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے ان کے لیے نہ اتارنا
“، اس میں حدیث ایک طویل قصہ ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3705] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (111) (تحفة الأشراف: 17675) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس کرتے سے مراد خلعت خلافت (خلافت کی چادر) ہے، مفہوم یہ ہے کہ اگر منافقین تمہیں خلافت سے دستبردار ہونے کو کہیں اور اس سے معزول کرنا چاہیں تو ایسا مت ہونے دینا کیونکہ اس وقت تم حق پر قائم رہو گے اور دستبرداری کا مطالبہ کرنے والے باطل پر ہوں گے، اللہ کے رسول کے اسی فرمان کے پیش نظر عثمان رضی الله عنہ نے شہادت کا جام پی لیا۔ لیکن دستبردار نہیں ہوئے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (112)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (112)