عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، زَيْدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، أَبِي إِسْحَاق ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عُثْمَانُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَوْقَ دَارِهِ , ثُمَّ قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ حِرَاءَ حِينَ انْتَفَضَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْبُتْ حِرَاءُ فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ , أَوْ صِدِّيقٌ , أَوْ شَهِيدٌ "، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ: " مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً وَالنَّاسُ مُجْهَدُونَ مُعْسِرُونَ فَجَهَّزْتُ ذَلِكَ الْجَيْشَ "، قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ بِئْرَ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا بِثَمَنٍ فَابْتَعْتُهَا , فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ , وَالْفَقِيرِ , وَابْنِ السَّبِيلِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، وَأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب عثمان رضی الله عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے مکان کے کوٹھے سے جھانک کر بلوائیوں کو دیکھا پھر کہا: میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد دلاتا ہوں: کیا تم جانتے ہو کہ حرا پہاڑ سے جس وقت وہ ہلا تھا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ
”حرا ٹھہرے رہو! کیونکہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید کے علاوہ کوئی اور نہیں؟
“، ان لوگوں نے کہا: ہاں، پھر عثمان رضی الله عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد لاتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے سلسلے میں فرمایا تھا:
”کون (اس غزوہ کا) خرچ دے گا جو اللہ کے نزدیک مقبول ہو گا (اور لوگ اس وقت پریشانی اور تنگی میں تھے)
“ تو میں نے (خرچ دے کر) اس لشکر کو تیار کیا؟، لوگوں نے کہا: ہاں، پھر عثمان رضی الله عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یاد دلاتا ہوں: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بئررومہ کا پانی بغیر قیمت کے کوئی پی نہیں سکتا تھا تو میں نے اسے خرید کر غنی، محتاج اور مسافر سب کے لیے وقف کر دیا؟، لوگوں نے کہا: ہاں، ہمیں معلوم ہے اور اسی طرح اور بھی بہت سی چیزیں انہوں نے گنوائیں
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے یعنی ابوعبدالرحمٰن کی روایت سے جسے وہ عثمان سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3699] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوصایا 33 (تعلیقاً)، سنن النسائی/الاحباس 4 (3639) (تحفة الأشراف: 9814)، و مسند احمد (1/59) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں مذکور تینوں باتیں اسلام کی عظیم ترین خدمت ہیں جن کو عثمان رضی الله عنہ نے انجام دیئے، یہ آپ کی اسلام میں عظیم مقام و مرتبے کی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (109)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (109)