سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، الْمُقْرِئُ ، حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف مشرح بن ہاعان کی روایت سے جانتے ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3686] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9966)، و مسند احمد (4/154) (حسن)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمر رضی الله عنہ نہایت فہم و فراست اور الٰہی الہام سے بہرہ ور ہیں وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبی مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، ورنہ کسی اور سے پہلے عمر ہی ہوتے۔
قال الشيخ الألباني
حسن، الصحيحة (327)
الحكم: حسن، الصحيحة (327)