عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ , فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ , وَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ، فَقَالَتْ: أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ أَجِدْكَ؟ قَالَ: " فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَائْتِي أَبَا بَكْرٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کسی مسئلہ میں آپ سے بات کی اور آپ نے اسے کسی بات کا حکم دیا تو وہ بولی: مجھے بتائیے اللہ کے رسول! اگر میں آپ کو نہ پاؤں؟ (تو کس کے پاس جاؤں) آپ نے فرمایا:
”اگر تم مجھے نہ پانا تو ابوبکر کے پاس جانا
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3676] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3659)، والأحکام 51 (7220)، والاعتصام 25 (7360)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 1 (2386) (تحفة الأشراف: 3192) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد آپ کے جانشین ابوبکر رضی الله عنہ کے ہونے کی پیشین گوئی، اور ان کو اپنا جانشین بنانے کا لوگوں کو اشارہ ہے۔
الحكم: صحيح