مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ ، الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَخْرُجُ عَلَى أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَهُمْ جُلُوسٌ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَلَا يَرْفَعُ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ بَصَرَهُ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ , فَإِنَّهُمَا كَانَا يَنْظُرَانِ إِلَيْهِ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِمَا , وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مہاجرین و انصار میں سے اپنے صحابہ کے پاس نکل کر آتے اور وہ بیٹھے ہوتے، ان میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی ہوتے، تو ان میں سے کوئی اپنی نگاہ آپ کی طرف نہیں اٹھاتا تھا، سوائے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے یہ دونوں آپ کو دیکھتے اور مسکراتے اور آپ ان دونوں کو دیکھتے اور مسکراتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اس حدیث کو ہم صرف حکم بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں،
۳- بعض محدثین نے حکم بن عطیہ کے بارے میں کلام کیا ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3668] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 286) (ضعیف) (سند میں ”حکم بن عطیہ“ پر کلام ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (6053)
قال الشيخ زبير على زئي
(3668) إسناده ضعيف
الحكم بن عطية: ضعيف يعتبر به، انظر التحرير (1455) ضعفه الجمهور و روي عنه أبو دادو أحاديث منكرة
الحكم: ضعيف، المشكاة (6053)