مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، أَبِي إِسْحَاق ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”میں ہر خلیل کی
«خلت» (دوستی) سے بری ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل (دوست) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو، یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کو خلیل بناتا، اور تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ہے
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3655] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/فضائل الصحابة 1 (2383)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (93) (تحفة الأشراف: 9513)، و مسند احمد (1/377، 389، 395) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «خُلّت» دوستی کی ایک خاص حالت ہے جس کے معنی ہیں دوست کی دوستی کا دل میں رچ بس جانا، یہ ”محبت“ سے اعلی و ارفع حالت ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا ابراہیم علیہ السلام نے یہ مقام صرف اللہ تعالیٰ کو دیا ہے، رہی محبت کی بات تو آپ کو سارے صحابہ، صدیقین و صالحین سے محبت ہے، اور صحابہ میں ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کا مقام سب سے افضل ہے، حتیٰ کہ ممکن ہوتا تو آپ ابوبکر کو ”خلیل“ بنا لیتے، یہ بات ابوبکر رضی الله عنہ کی ایک بہت بڑی فضیلت پر دلالت کر رہی ہے۔
الحكم: صحيح