إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، مَعْنٌ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ , وَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَزِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا، عصر کا وقت ہو گیا تھا، لوگوں نے وضو کا پانی ڈھونڈھا، لیکن وہ نہیں پا سکے، اتنے میں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ وضو کا پانی لایا گیا، تو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے وضو کریں، وہ کہتے ہیں: تو میں نے آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابلتے دیکھا، پھر لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ان میں کا جو سب سے آخری شخص تھا اس نے بھی وضو کر لیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- انس کی یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمران بن حصین، ابن مسعود، جابر اور زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3631] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 32 (169)، و45 (195)، و46 (200)، والمناقب 25 (357
2- 3575)، صحیح مسلم/الفضائل 3 (2279)، سنن النسائی/الطھارة 61 (76) (تحفة الأشراف: 201)، وط/الطھارة 6 (32)، و مسند احمد (3/147، 170، 215) (صحیح)»
الحكم: صحيح