يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْبَغْدَادِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ قُرَيْشًا جَلَسُوا فَتَذَاكَرُوا أَحْسَابَهُمْ بَيْنَهُمْ فَجَعَلُوا مَثَلَكَ مَثَلَ نَخْلَةٍ فِي كَبْوَةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ , فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهِمْ مِنْ خَيْرِ فِرَقِهِمْ , وَخَيْرِ الْفَرِيقَيْنِ، ثُمَّ تَخَيَّرَ الْقَبَائِلَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ قَبِيلَةٍ، ثُمَّ تَخَيَّرَ الْبُيُوتَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ بُيُوتِهِمْ، فَأَنَا خَيْرُهُمْ نَفْسًا وَخَيْرُهُمْ بَيْتًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ هُوَ ابْنُ نَوْفَلٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قریش کے لوگ بیٹھے اور انہوں نے قریش میں اپنے حسب کا ذکر کیا تو آپ کی مثال کھجور کے ایک ایسے درخت سے دی جو کسی کوڑے خانہ پر (اگا) ہو تو نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، اس نے اس میں سے دو گروہوں کو پسند کیا، اور مجھے ان میں سب سے اچھے گروہ (یعنی اولاد اسماعیل) میں پیدا کیا، پھر اس نے قبیلوں کو چنا اور مجھے بہتر قبیلے میں سے کیا، پھر گھروں کو چنا اور مجھے ان گھروں میں سب سے بہتر گھر میں کیا، تو میں ذاتی طور پر بھی ان میں سب سے بہتر ہوں اور گھرانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3607] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف، وانظر مایأتي (تحفة الأشراف: 5130) (ضعیف) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف نقد الكتاني (31 - 32) ، الضعيفة (3073) // ضعيف الجامع الصغير (1605) //
قال الشيخ زبير على زئي
(3607) إسناده ضعيف
يزيد: ضعيف (تقدم:114) و انظر الحديث الآتي :3608
الحكم: ضعيف نقد الكتاني (31 - 32) ، الضعيفة (3073) // ضعيف الجامع الصغير (1605) //