بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 342 — باب: مشرق اور مغرب کے درمیان میں جو ہے سب قبلہ ہے۔
کتب جامع ترمذی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: مشرق اور مغرب کے درمیان میں جو ہے سب قبلہ ہے۔ حدیث 342
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مشرق (پورب) اور مغرب (پچھم) کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الإقامة 56 (1011)، (تحفة الأشراف: 15124) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ ان ملکوں کے لیے ہے جو قبلے کے شمال (اُتر) یا جنوب (دکھن) میں واقع ہیں، جیسے مدینہ (شمال میں) اور یمن (جنوب میں) اور بر صغیر ہندو پاک یا مصر وغیرہ کے لوگوں کے لیے اسی کو یوں کہا جائیگا شمال اور جنوب کے درمیان جو فضا کا حصہ ہے وہ سب قبلہ ہے یعنی اپنے ملک کے قبلے کی سمت میں ذرا سا ٹیڑھا کھڑا ہونے میں (جو جان بوجھ کر نہ ہو) کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1011)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1011)
← پچھلی حدیث (341) باب پر واپس اگلی حدیث (343) →