بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 3321 — باب: سورۃ الحاقہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
کتب جامع ترمذی کتاب: تفسیر قرآن کریم باب: سورۃ الحاقہ سے بعض آیات کی تفسیر۔ حدیث 3321
حدیث نمبر: 3321 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ الرّازِي ، أباه ، أبيه ، رَجُلًا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ الرّازِي، أن أباه أخبره، عن أبيه، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بِبُخَارَى عَلَى بَغْلَةٍ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ وَيَقُولُ: كَسَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن سعد رازی سے روایت ہے کہ ان کے باب عبداللہ نے ان کو خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو بخارا میں خچر پر سوار سر پر سیاہ عمامہ باندھے ہوئے دیکھا وہ کہتا تھا: یہ وہ عمامہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پہنایا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (ضعیف الإسناد) (سند میں سعد بن عثمان الرازی الدشتکی مقبول راوی ہیں، لیکن متابعت نہ ہونے کی وجہ سے وہ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت
۱؎: باب سے اس حدیث کا ظاہری تعلق نہیں ہے، اسے صرف یہ بتانے کے لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے مذکورہ حدیث کی سند میں جس میں عبدالرحمٰن بن سعد کا ذکر ہے اس سے یہی عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن سعد رازی مراد ہیں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
(3321) إسناده ضعيف / د 4038
الحكم: ضعيف الإسناد
← پچھلی حدیث (3320) باب پر واپس اگلی حدیث (3322) →