عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، حُصَيْنٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَبِيهِ ، حُصَيْنٍ ، جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَارَ فِرْقَتَيْنِ عَلَى هَذَا الْجَبَلِ وَعَلَى هَذَا الْجَبَلِ "، فَقَالُوا: سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَئِنْ كَانَ سَحَرَنَا مَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْحَرَ النَّاسَ كُلَّهُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَن حُصَيْنٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر، ان لوگوں نے کہا: محمد (
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے ہم پر جادو کر دیا ہے، لیکن ان ہی میں سے بعض نے (اس کی تردید کی) کہا: اگر انہوں نے ہمیں جادو کر دیا ہے تو (باہر کے) سبھی لوگوں کو جادو کے زیر اثر نہیں لا سکتے
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
ان میں سے بعض نے یہ حدیث حصین سے حصین نے جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم سے، جبیر نے اپنے باپ محمد سے، محمد نے ان (جبیر پوتا) کے دادا جبیر بن مطعم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3289] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3197) (صحیح الإسناد)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ باہر سے آنے والوں نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی خبر دی تھی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
الحكم: صحيح الإسناد