عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى فَانْشَقَّ الْقَمَرُ فَلْقَتَيْنِ: فَلْقَةٌ مِنْ وَرَاءِ الْجَبَلِ، وَفَلْقَةٌ دُونَهُ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْهَدُوا " يَعْنِي: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ سورة القمر آية 1 "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم منیٰ میں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، چاند دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا (اس جانب) پہاڑ کے پیچھے اور دوسرا ٹکڑا اس جانب (پہاڑ کے آگے) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے فرمایا:
”گواہ رہو، یعنی اس بات کے گواہ رہو کہ
«اقتربت الساعة وانشق القمر» یعنی: قیامت قریب ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3285] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المناقب 27 (3636)، ومناقب الأنصار 36 (3869)، وتفسیر سورة القمر 1 (4864)، صحیح مسلم/المنافقین 8 (2800) (تحفة الأشراف: 9336) (صحیح)»
وضاحت
؎: ”قیامت قریب آ چکی ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں“ (القمر: ۱)۔
الحكم: صحيح