مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَكِيعٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيِّ ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، لِأَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: لَوْ أَدْرَكْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ، فَقَال: عَمَّا كُنْتَ تَسْأَلُهُ؟ قُلْتُ: كُنْتُ أَسْأَلُهُ، هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ؟ فَقَالَ: قَدْ سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی الله عنہ سے کہا: اگر میں نے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پایا ہوتا تو آپ سے پوچھتا، انہوں نے کہا: تم آپ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا پوچھتے؟ میں نے کہا: میں یہ پوچھتا کہ کیا آپ (محمد
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ ابوذر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے آپ سے یہ بات پوچھی تھی، آپ نے فرمایا:
”وہ نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3282] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإیمان 78 (178) (تحفة الأشراف: 11938) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الظلال (192 / 441)
الحكم: صحيح الظلال (192 / 441)