بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 3237 — باب: سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر۔
کتب جامع ترمذی کتاب: تفسیر قرآن کریم باب: سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر۔ حدیث 3237
حدیث نمبر: 3237 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ: " " يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا سورة الزمر آية 53 وَلَا يُبَالِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ يَرْوِي عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، وَأُمُّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ هِيَ أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آیت «يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا» اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے (یعنی گناہ کیے ہیں) اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوؤ، اللہ سبھی گناہ معاف کر دیتا ہے (الزمر: ۵۳)، پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ اللہ کو کوئی پروا نہیں ہوتی (کہ اللہ کی اس چھوٹ اور مہربانی سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے اور کون محروم رہ رہا ہے) ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف ثابت کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ شہر بن حوشب سے روایت کرتے ہیں،
۳- شہر بن حوشب ام سلمہ انصاریہ سے روایت کرتے ہیں، اور ام سلمہ انصاریہ اسماء بنت یزید ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15771) (ضعیف الإسناد) (سند میں ”شہر بن حوشب“ ضعیف ہیں)»
وضاحت
۱؎: احمد کی روایت میں «لا يبالي» کے بعد آیت کا اگلا ٹکڑا بھی ہے «إن الله هو الغفور الرحيم» (الشورى: ۵) صاحب تحفہ الأحوذی فرماتے ہیں: شاید پہلے «لا يبالي» کا لفظ بھی آیت میں شامل تھا جو بعد میں منسوخ ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
الحكم: ضعيف الإسناد
← پچھلی حدیث (3236) باب پر واپس اگلی حدیث (3238) →