بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 3232 — باب: سورۃ ص سے بعض آیات کی تفسیر۔
کتب جامع ترمذی کتاب: تفسیر قرآن کریم باب: سورۃ ص سے بعض آیات کی تفسیر۔ حدیث 3232
حدیث نمبر: 3232 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، يَحْيَى ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ عَبْدٌ هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ فَجَاءَتْهُ قُرَيْشٌ، وَجَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَ أَبِي طَالِبٍ مَجْلِسُ رَجُلٍ، فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ كَيْ يَمْنَعَهُ وَشَكَوْهُ إِلَى أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا تُرِيدُ مِنْ قَوْمِكَ، قَالَ: " إِنِّي أُرِيدُ مِنْهُمْ كَلِمَةً وَاحِدَةً تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ "، قَالَ: كَلِمَةً وَاحِدَةً؟ قَالَ: " كَلِمَةً وَاحِدَةً؟ " قَالَ: " يَا عَمِّ، قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "، فَقَالُوا: إِلَهًا وَاحِدًا: مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ سورة ص آية 7، قَالَ: فَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ: ص وَالْقُرْءَانِ ذِي الذِّكْرِ {1} بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ {2} إِلَى قَوْلِهِ مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلا اخْتِلاقٌ سورة ص آية 1 ـ 7. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ عِمَارَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ابوطالب بیمار پڑے، تو قریش ان کے پاس آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی آئے، ابوطالب کے پاس صرف ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابوجہل اٹھا کہ وہ آپ کو وہاں بیٹھنے سے روک دے، اور ان سب نے ابوطالب سے آپ کی شکایت کی، ابوطالب نے آپ سے کہا: بھتیجے! تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟ آپ نے فرمایا: میں ان سے صرف ایک ایسا کلمہ تسلیم کرانا چاہتا ہوں جسے یہ قبول کر لیں تو اس کلمہ کے ذریعہ پورا عرب مطیع و فرماں بردار ہو جائے گا اور عجم کے لوگ انہیں جزیہ ادا کریں گے، انہوں نے کہا: ایک ہی کلمہ؟ آپ نے فرمایا: ہاں، ایک ہی کلمہ، آپ نے فرمایا: چچا جان! آپ لوگ «لا إلہ الا اللہ» کہہ دیجئیے، انہوں نے کہا: ایک معبود کو تسلیم کر لیں؟ یہ بات تو ہم نے اگلے لوگوں میں نہیں سنی ہے، یہ تو صرف بناوٹی اور (تمہاری) گھڑی ہوئی بات ہے، (ہم یہ بات تسلیم نہیں کر سکتے) ابن عباس کہتے ہیں: اسی پر ان ہی لوگوں سے متعلق سورۃ ص کی آیات «ص والقرآن ذي الذكر بل الذين كفروا في عزة وشقاق) إلى قوله (ما سمعنا بهذا في الملة الآخرة إن هذا إلا اختلاق» صٓ، اس نصیحت والے قرآن کی قسم، بلکہ کفار غرور و مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباہ کر ڈالا، انہوں نے ہر چند چیخ و پکار کی لیکن وہ چھٹکارے کا نہ تھا اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ انہیں میں سے ایک انہیں ڈرانے والا آ گیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے، کیا اس نے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا، واقعی یہ تو بہت ہی عجیب بات ہے، ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے، ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے (ص: ۱-۷)، تک نازل ہوئیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- یحییٰ بن سعید نے بھی سفیان سے، سفیان نے اعمش سے اسی حدیث کے مثل حدیث بیان کی، اور یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عباد کے بجائے یحییٰ بن عمارہ کہا۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3232]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 5645، و5647) (ضعیف الإسناد) (سند میں یحییٰ بن عباد یا یحیی بن عمارہ لین الحدیث راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
(3232) إسناده ضعيف
الأعمش وسفيان عنعنا (تقدما:746 ،169)
الحكم: ضعيف الإسناد
← پچھلی حدیث (3231) باب پر واپس اگلی حدیث (3233) →