نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِيهِ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ظَهَرَتْ الروم عَلَى فَارِسَ فَأَعْجَبَ ذَلِكَ الْمُؤْمِنِينَ، فَنَزَلَتْ الم غُلِبَتِ الرُّومُ إِلَى قَوْلِهِ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ سورة الروم آية 1 ـ 5، قَالَ: فَفَرِحَ الْمُؤْمِنُونَ بِظُهُورِ الروم عَلَى فَارِسَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، كَذَا قَرَأَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ: 0 غَلَبَتِ الرُّومُ 0.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی
۱؎ اس پر یہ آیت:
«الم غلبت الروم» سے لے کر
«يفرح المؤمنون بنصر الله» ۲؎ تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے
«غَلَبَتِ الرُّومُ» (
«غ» اور
«ل» کے زبر کے ساتھ) پڑھا ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3192] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 2935 (صحیح) (بعد کی حدیث سے یہ صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ رومی اہل کتاب تھے اور مسلمان بھی اہل کتاب اس لیے ان کی کامیابی میں انہیں اپنی کامیابی دکھائی دی۔
۲؎: ”رومی مغلوب ہو گئے ہیں، نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے، چند سال میں ہی، اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ کا ہی ہے، اس روز مسلمان شادمان ہوں گے“ (الروم: ۱-۴)۔ قال الشيخ الألباني
صحيح بما بعده (3193) ومضى برقم (3116)
الحكم: صحيح بما بعده (3193) ومضى برقم (3116)