أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، أَبِي رَزِينٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ قَالَ: " كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ "، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ الْعَمَاءُ: أَيْ لَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَكِيعُ بْنُ حُدُسٍ، وَيَقُولُ شُعْبَةُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَهُشَيْمٌ: وَكِيعُ بْنُ عُدُسٍ وَهُوَ أَصَحُّ، وَأَبُو رَزِينٍ اسْمُهُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابورزین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: اللہ اپنی مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ آپ نے فرمایا:
” «عماء» میں تھا، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ ہی اس کے اوپر۔ اس نے اپنا عرش پانی پر بنایا
۱؎“، احمد بن منیع کہتے ہیں: (ہمارے استاد) یزید نے بتایا:
«عماء» کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اسی طرح حماد بن سلمہ نے اپنی روایت میں
”وكيع بن حدس
“ کہا ہے اور شعبہ، ابو عوانہ اور ہشیم نے
”وكيع بن عدس
“ کہا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے،
۳- ابورزین کا نام لقیط بن عامر ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3109] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (181) (تحفة الأشراف: 11176) (ضعیف)»
وضاحت
۱؎: «عماء» : اگر بالمد ہو تو اس کے معنی «سحاب» ، «رقیق» (بدلی) کے ہیں، اور اگر بالقصر ہو تو اس کے معنی «لاشیٔ» کے ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ابن ماجة (281) // {كذا} وهو في " ضعيف سنن ابن ماجة " برقم (32 - 182) ، مختصر العلو (193 و 250) ، السنة (612)
الحكم: ضعيف، ابن ماجة (281) // {كذا} وهو في " ضعيف سنن ابن ماجة " برقم (32 - 182) ، مختصر العلو (193 و 250) ، السنة (612)