إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ ، أَبُو طَلْحَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 أَوْ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ، وَكَانَ لَهُ حَائِطٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَائِطِي لِلَّهِ، وَلَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ، فَقَالَ: " اجْعَلْهُ فِي قَرَابَتِكَ أَوْ أَقْرَبِيكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت:
«لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» ۱؎ یا
«من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا» ۲؎ نازل ہوئی۔ اس وقت ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس ایک باغ تھا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باغ اللہ کی رضا کے لیے صدقہ ہے، اگر میں اسے چھپا سکتا (تو چھپاتا) اعلان نہ کرتا
۳؎ آپ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”اسے اپنے رشتہ داروں کے لیے وقف کر دو
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس حدیث کو مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ کے واسطہ سے انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کی ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2997] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف، وانظر: صحیح البخاری/الزکاة 44 (1461)، والوکالة 15 (2318)، والوصایا 17 (2758)، وتفسیر آل عمران 5 (4554)، والأشربة 13 (5611)، صحیح مسلم/الزکاة 14 (998) (تحفة الأشراف: 704، و204) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ”جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے“ (آل عمران: ۹۲)۔
۲؎: ”ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے“ (البقرہ: ۲۴۵)۔
۳؎: کیونکہ چھپا کر صدقہ و خیرات کرنا اللہ کو زیادہ پسند ہے۔ قال الشيخ الألباني
صحيح، صحيح أبي داود (1482)
الحكم: صحيح، صحيح أبي داود (1482)