بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2958 — باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
کتب جامع ترمذی کتاب: تفسیر قرآن کریم باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔ حدیث 2958
حدیث نمبر: 2958 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا أَيْنَمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ، وَهُوَ جَاءٍ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عُمَرَ هَذِهِ الْآيَةَ وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ سورة البقرة آية 115، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَفِي هَذَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے مدینہ آتے ہوئے نفل نماز اپنی اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے پڑھ رہے تھے۔ اونٹنی جدھر بھی چاہتی منہ پھیرتی ۱؎، ابن عمر نے پھر یہ آیت «ولله المشرق والمغرب» اللہ ہی کے لیے مغرب و مشرق ہیں (البقرہ: ۱۱۵) پڑھی۔ ابن عمر کہتے ہیں: یہ آیت اسی تعلق سے نازل ہوئی ہے ۳؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- قتادہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: آیت: «ولله المشرق والمغرب فأينما تولوا فثم وجه الله» (البقرة: ۱۱۵) منسوخ ہے، اور اسے منسوخ کرنے والی آیت «فول وجهك شطر المسجد الحرام» آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں (البقرہ: ۱۴۴) ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 4 (700)، سنن النسائی/الصلاة 23 (492)، تحفة الأشراف: 7057)، و مسند احمد (2/20، 41)، وراجع أیضا: صحیح البخاری/الوتر 6 (1000) وتقصیر الصلاة 9 (1098)، 12 (1105)، و سنن ابی داود/ الصلاہ 277 (1224)، وسنن النسائی/الصلاة 23 (491)، والقبلة 1 (745) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ مسافر اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھ سکتا ہے، اس سواری کا رخ کسی بھی سمت ہو، شرط یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت قبلہ رخ ہونا ضروری ہے اس کے بعد جہت قبلہ سے ہٹ جانے میں کوئی حرج نہیں۔
۲؎: عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ایک آیت کے سبب نزول کے سلسلے میں کئی واقعات منقول ہوتے ہیں، دراصل ان سب پروہ آیت صادق آتی ہے، یا متعدد واقعات پر وہ آیت دوبارہ نازل ہوتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، صفة الصلاة
قال الشيخ زبير على زئي
(2958) إسناده ضعيف
قول قتاده : ”هي منسوخة“ سنده ضعيف ، سعيد بن أبى عروبة عنعن وهو مدلس (تقدم: 30)
الحكم: صحيح، صفة الصلاة
← پچھلی حدیث (2957) باب پر واپس اگلی حدیث (2959) →