بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2948 — باب:۔۔۔
کتب جامع ترمذی کتاب: قرآن کریم کی قرأت و تلاوت باب:۔۔۔ حدیث 2948
حدیث نمبر: 2948 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، الْهَيْثَمُ بْنُ الرَّبِيعِ ، صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟، قَالَ: " الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ "، قَالَ: وَمَا الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ؟، قَالَ: " الَّذِي يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِ الْقُرْآنِ إِلَى آخِرِهِ، كُلَّمَا حَلَّ ارْتَحَلَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: «الحال» اور «المرتحل» (اترنے اور کوچ کرنے والا) عمل۔ اس نے کہا: «الحال» اور «المرتحل» (اترنے اور کوچ کرنے والا) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: جو قرآن شروع سے لے کر آخر تک پڑھتا ہے، جب بھی وہ اترتا ہے کوچ کر دیتا ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف ابن عباس رضی الله عنہما کی اس روایت سے جانتے ہیں جو اس سند سے آئی ہے اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5429) (ضعیف الإسناد) (سند میں صالح المری ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
(2948) إسناده ضعيف
صالح المري: ضعيف (تقدم:2133)
الحكم: ضعيف الإسناد
← پچھلی حدیث (2947) باب پر واپس اگلی حدیث (2949) →