مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم «فهل من مدكر» ۱؎ پڑھتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2937] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/احادیث الأنبیاء 3 (3341)، وتسیر سورة القمر 2 (487
2- 4874)، صحیح مسلم/المسافرین 50 (823)، سنن ابی داود/ الحروف (2994) (تحفة الأشراف: 9179) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہی مشہور قراءت ہے یعنی دال مہملہ کے ساتھ اس کی اصل ہے «مُذْ تَکِر» (بروزن «مُجْتَنِب» تاء کو دال مہملہ سے بدل دیا اور ذال کو دال میں مدغم کر دیا تو «مُدَّکِر» ہو گیا، بعض قراء نے «ُمُذَّکِر» (ذال معجم کے ساتھ) پڑھا ہے بہرحال معنی ہے: ”پس کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا“ (القمر: ۴۰)۔
الحكم: صحيح