بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 29 — باب: داڑھی کے خلال کرنے کا بیان​۔
کتب جامع ترمذی کتاب: طہارت کے احکام و مسائل باب: داڑھی کے خلال کرنے کا بیان​۔ حدیث 29
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ أَبِي أُمَيَّةَ ، حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ تَوَضَّأَ، فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ، فَقِيلَ لَهُ: أَوْ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَتُخَلِّلُ لِحْيَتَكَ , قَالَ: وَمَا يَمْنَعُنِي وَلَقَدْ " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حسان بن بلال کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی الله عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنی داڑھی میں خلال کیا ۱؎ ان سے کہا گیا یا راوی حدیث حسان نے کہا کہ میں نے ان سے کہا: کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں داڑھی کا خلال کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو داڑھی کا خلال کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 29]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الطہارة 50 (429) (تحفة الأشراف: 10346) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ داڑھی کا خلال مسنون ہے، بعض لوگ وجوب کے قائل ہیں، لیکن تمام دلائل کا جائزہ لینے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سنت ہے واجب نہیں، جمہور کا یہی قول ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (429)
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف
عبد الكريم بن أبي المخارق ضعيف (تقديم : 12) والحديث الآتي (الأصل : 31) يغني عنه
الحكم: صحيح، ابن ماجة (429)
← پچھلی حدیث (28) باب پر واپس اگلی حدیث (30) →