بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2887 — باب: سورۃ یاسین کی فضیلت کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل باب: سورۃ یاسین کی فضیلت کا بیان۔ حدیث 2887
حدیث نمبر: 2887 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، هَارُونَ أَبِي مُحَمَّدٍ ، مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قُتَيْبَةُ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " " إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يس، وَمَنْ قَرَأَ يس كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ " "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَبِالْبَصْرَةِ لَا يَعْرِفُونَ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهَارُونُ أَبُو مُحَمَّدٍ شَيْخٌ مَجْهُولٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَذَا، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَلَا يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورۃ یاسین ہے۔ اور جس نے سورۃ یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں۔
۳- اس باب میں ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔
۴- اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1350) (موضوع) (سند میں ہارون العبدی اور مقاتل بن سلیمان کذاب ہیں، یہاں مقاتل بن سلیمان ہی صحیح ہے، مقاتل بن حیان سہو ہے، دیکھیے: الضعیفة رقم: 169)»
قال الشيخ الألباني
موضوع، الضعيفة (169) ، // ضعيف الجامع الصغير (1935) //
قال الشيخ زبير على زئي
(2887) إسناده ضعيف
هارون: مجهول (تق:7249)
الحكم: موضوع، الضعيفة (169) ، // ضعيف الجامع الصغير (1935) //
← پچھلی حدیث (2886) باب پر واپس اگلی حدیث (2888) →