بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2876 — باب: سورۃ البقرہ اور آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل باب: سورۃ البقرہ اور آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان۔ حدیث 2876
حدیث نمبر: 2876 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثِ بنُ سَعْدٍ ، سَعِيدٍ الَمْقُبرِيِّ ، عَطَاءِ مَوْلَي أبِي أَحْمَدَ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَهُمْ ذُو عَدَدٍ فَاسْتَقْرَأَهُمْ، فَاسْتَقْرَأَ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَا مَعَهُ مِنَ الْقُرْآنِ، فَأَتَى عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، فَقَالَ: مَا مَعَكَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: مَعِي كَذَا وَكَذَا وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ، قَالَ: أَمَعَكَ سورة البقرة؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مَنَعَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ سورة البقرة إِلَّا خَشْيَةَ أَلَّا أَقُومَ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْرَءُوهُ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ، وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَيَرْقُدُ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِئَ عَلَى مِسْكٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا نَحْوَهَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنِ اللَّيْثِ بنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الَمْقُبرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ مَوْلَي أبِي أَحْمَدَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّيَ الله عليه وسَلَم مرسَلا نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وفي الباب عن أبِّي ابن كَعْبٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گنتی کے کچھ لشکری بھیجے (بھیجتے وقت) ان سے (قرآن) پڑھوایا، تو ان میں سے ہر ایک نے جسے جتنا قرآن یاد تھا پڑھ کر سنایا۔ جب ایک نوعمر نوجوان کا نمبر آیا تو آپ نے اس سے کہا: اے فلاں! تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی تمہیں کون کون سی سورتیں یاد ہیں؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں اور سورۃ البقرہ یاد ہے۔ آپ نے کہا: کیا تمہیں سورۃ البقرہ یاد ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: جاؤ تم ان سب کے امیر ہو۔ ان کے شرفاء میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے سورۃ البقرہ صرف اسی ڈر سے یاد نہ کی کہ میں اسے (نماز تہجد میں) برابر پڑھ نہ سکوں گا۔ آپ نے فرمایا: قرآن سیکھو، اسے پڑھو اور پڑھاؤ۔ کیونکہ قرآن کی مثال اس شخص کے لیے جس نے اسے سیکھا اور پڑھا، اور اس پر عمل کیا اس تھیلی کی ہے جس میں مشک بھری ہوئی ہو اور چاروں طرف اس کی خوشبو پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے اسے سیکھا اور سو گیا اس کا علم اس کے سینے میں بند رہا۔ اس تھیلی کی سی ہے جو مشک بھر کر سیل بند کر دی گئی ہو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اس حدیث کو لیث بن سعد نے سعید مقبری سے، اور سعید نے ابواحمد کے آزاد کردہ غلام عطا سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس روایت میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2876]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المقدمة 16 (217) (تحفة الأشراف: 14242) (ضعیف) (سند میں عطاء مولی ابی احمد لین الحدیث راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ابن ماجة (217) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (39) ، المشكاة (2143) ، ضعيف الجامع الصغير (2452) //
الحكم: ضعيف، ابن ماجة (217) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (39) ، المشكاة (2143) ، ضعيف الجامع الصغير (2452) //
← پچھلی حدیث (2875) باب پر واپس اگلی حدیث (2877) →