مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ ، مُنْذِرٌ وَهُوَ الثَّوْرِيُّ ، مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنِي مُنْذِرٌ وَهُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ أُسَمِّيهِ مُحَمَّدًا وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَانَتْ رُخْصَةً لِي "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ کے انتقال کے بعد میرے یہاں لڑکا پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام محمد اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا:
”ہاں
“۔ (ایسا کر سکتے ہو) علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: یہ صرف میرے لیے رخصت و اجازت تھی
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2843] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الأدب 76 (4967) (تحفة الأشراف: 10268) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح مختصر تحفة الودود
الحكم: صحيح مختصر تحفة الودود