بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2790 — باب: خوشبو واپس کر دینا ناپسندیدہ اور مکروہ کام ہے۔
کتب جامع ترمذی کتاب: اسلامی اخلاق و آداب باب: خوشبو واپس کر دینا ناپسندیدہ اور مکروہ کام ہے۔ حدیث 2790
حدیث نمبر: 2790 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ ، ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ: الْوَسَائِدُ، وَالدُّهْنُ، وَاللَّبَنُ الدُّهْنُ، يَعْنِي بِهِ الطِّيبَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدَبٍ وَهُوَ مَدَنِيٌّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں (ہدیہ و تحفہ میں آئیں) تو وہ واپس نہیں کی جاتی ہیں: تکئے، دہن، اور دودھ، دہن (تیل) سے مراد خوشبو ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- عبداللہ یہ مسلم بن جندب کے بیٹے ہیں اور مدنی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2790]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7453) (حسن)»
قال الشيخ الألباني
حسن مختصر الشمائل (187)
الحكم: حسن مختصر الشمائل (187)
← پچھلی حدیث (2789) باب پر واپس اگلی حدیث (2791) →