مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ الْحَنَفِيِّ ، غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ الْحَنَفِيِّ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ، وَالْمَرْأَةُ إِذَا اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ فَهِيَ كَذَا وَكَذَا يَعْنِي زَانِيَةً "، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”ہر آنکھ زنا کار ہے اور عورت جب خوشبو لگا کر مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ بھی ایسی ایسی ہے یعنی وہ بھی زانیہ ہے
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2786] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الترجل 7 (4173)، سنن النسائی/الزینة 35 (5129) (تحفة الأشراف: 9023) (حسن)»
وضاحت
۱؎: ہر آنکھ زنا کار ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ آنکھ جو کسی اجنبی عورت کی طرف شہوت سے دیکھے وہ زانیہ ہے، اور خوشبو لگا کر کسی مجلس کے پاس سے گزرنے والی عورت اس لیے زانیہ ہے کیونکہ وہ لوگوں کی نگاہوں کو اپنی طرف مائل کرنے کا سبب بنی ہے، اس لیے وہ برابر کی شریک ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن تخريج إيمان أبى عبيد (96 / 110) ، تخريج المشكاة (65) ، حجاب المرأة (64)
الحكم: حسن تخريج إيمان أبى عبيد (96 / 110) ، تخريج المشكاة (65) ، حجاب المرأة (64)