الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَلْوَانِيُّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَلْوَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الِاسْتِحْدَادُ، وَالْخِتَانُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”پانچ چیزیں فطرت سے ہیں
۱؎، (۱) شرمگاہ کے بال مونڈنا، (۲) ختنہ کرنا، (۳) مونچھیں کترنا، (۴) بغل کے بال اکھیڑنا، (۵) ناخن تراشنا
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2756] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/اللباس 63 (5889)، و64 (5891)، والاستئذان 51 (6697)، صحیح مسلم/الطہارة 16 (257)، سنن ابی داود/ الترجل 16 (4198)، سنن النسائی/الطہارة 9 (9)، و 10 (10)، والزینة 53 (5046)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 8 (292) (تحفة الأشراف: 13286)، وط/صفة النبی اکرم صلى الله عليه و آله وسلم 3 (4) (موقوفا) و مسند احمد (2/229، 240، 284، 411، 489) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی انبیاء کی وہ سنتیں ہیں جن کی اقتداء کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ یہ ساری شریعتوں میں تھیں، کیونکہ یہ فطرت انسانی کے اندر داخل ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (292)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (292)