قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ، وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تمہاری ان کے کسی فرد سے راستے میں ملاقات ہو جائے تو اسے تنگ راستے سے ہی جانے پر مجبور کرو
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2700] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم 1602 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی یہود و نصاری اور غیر مسلموں کو مجبور کیا جائے کہ بھیڑ والے راستوں میں کناروں پر چلیں، اور مسلمان درمیان میں چلیں تاکہ ان کی شوکت و حشمت کا اظہار ہو۔ اور اس طرح سے ان کو سلام اور مسلمانوں کے بارے میں مزید غور وفکر کا موقع ملے، شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کا دل عزت و غلبہ والے دین کے لیے کھول دے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (127) ، الصحيحة (704)
الحكم: صحيح، الإرواء (127) ، الصحيحة (704)