بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2636 — باب: اپنے مسلمان بھائی کو کافر ٹھہرانے والا کیسا ہے؟
کتب جامع ترمذی کتاب: ایمان و اسلام باب: اپنے مسلمان بھائی کو کافر ٹھہرانے والا کیسا ہے؟ حدیث 2636
حدیث نمبر: 2636 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَاعِنُ الْمُؤْمِنِ كَقَاتِلِهِ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَاتِلِهِ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِمَا قَتَلَ بِهِ نَفْسَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , وفي الباب عن أَبِي ذَرٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بندہ جس چیز کا مالک نہ ہو اس چیز کی نذر مان لے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ۱؎، مومن پر لعنت بھیجنے والا گناہ میں اس کے قاتل کی مانند ہے اور جو شخص کسی مومن کو کافر ٹھہرائے تو وہ ویسا ہی برا ہے جیسے اس مومن کا قاتل، اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر ڈالا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دے گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوذر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجنائز 83 (1363)، والأدب 44 (6047)، و73 (6105)، والأیمان والنذور 7 (6652)، صحیح مسلم/الأیمان 47 (110)، سنن ابی داود/ الأیمان 9 (3257)، سنن النسائی/الأیمان 7 (3801، 3802)، و31 (3844) (تحفة الأشراف: 2062)، و مسند احمد (4/33، 34) (وانظر ماتقدم عند المؤلف برقم 1527) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر اللہ میرے مریض کو شفاء دیدے تو فلاں غلام آزاد ہے، حالانکہ اس غلام کا وہ مالک نہیں ہے، معلوم ہوا کہ جو چیز بندہ کے بس میں نہیں ہے اس کی نذر ماننا صحیح نہیں اور ایسی نذر کا کچھ بھی اعتبار نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2098)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2098)
← پچھلی حدیث (2635) باب پر واپس اگلی حدیث (2637) →