بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2575 — باب: جہنم کی گہرائی کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: جہنم اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ باب: جہنم کی گہرائی کا بیان۔ حدیث 2575
حدیث نمبر: 2575 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنِ ، عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ: عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الصَّخْرَةَ الْعَظِيمَةَ لَتُلْقَى مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَتَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا وَمَا تُفْضِي إِلَى قَرَارِهَا" , قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ , يَقُولُ: أَكْثِرُوا ذِكْرَ النَّارِ فَإِنَّ حَرَّهَا شَدِيدٌ وَإِنَّ قَعْرَهَا بَعِيدٌ وَإِنَّ مَقَامِعَهَا حَدِيدٌ" , قَالَ أَبُو عِيسَى: لَا نَعْرِفُ لِلْحَسَنِ سَمَاعًا مِنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، وَإِنَّمَا قَدِمَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ الْبَصْرَةَ فِي زَمَنِ عُمَرَ وَوُلِدَ الْحَسَنُ لِسَنَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حسن بصری کہتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان رضی الله عنہ نے ہمارے اس بصرہ کے منبر پر بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر ایک بڑا بھاری پتھر جہنم کے کنارہ سے ڈالا جائے تو وہ ستر برس تک اس میں گرتا جائے گا پھر بھی اس کی تہہ تک نہیں پہنچے گا۔ عتبہ کہتے ہیں: عمر رضی الله عنہ کہا کرتے تھے: جہنم کو کثرت سے یاد کرو، اس لیے کہ اس کی گرمی بہت سخت ہے۔ اس کی گہرائی بہت زیادہ ہے اور اس کے آنکس (آنکڑے) لوہے کے ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
ہم عتبہ بن غزوان سے حسن بصری کا سماع نہیں جانتے ہیں، عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت میں عتبہ بن غزوان رضی الله عنہ بصرہ آئے تھے، اور حسن بصری کی ولادت اس وقت ہوئی جب عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت کے دو سال باقی تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الزہد 1 (2967)، سنن ابن ماجہ/الزہد 12 (4156) (مختصراً جداً) (تحفة الأشراف: 9757)، و مسند احمد (4/174)، (5/61) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح، الصحيحة (1612)
الحكم: صحيح، الصحيحة (1612)
← پچھلی حدیث (2574) باب پر واپس اگلی حدیث (2576) →