بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2567 — باب:۔۔۔
کتب جامع ترمذی کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ باب:۔۔۔ حدیث 2567
حدیث نمبر: 2567 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو كُرَيْبٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشِ ، مَنْصُورٍ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَرْفَعُهُ، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ: رَجُلٌ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتْلُو كِتَابَ اللَّهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ صَدَقَةً بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا " , أُرَهُ قَالَ: " مِنْ شِمَالِهِ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ فَاسْتَقْبَلَ الْعَدُوَّ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ كَثِيرُ الْغَلَطِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے: ایک وہ آدمی جو رات میں اٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرے، دوسرا وہ آدمی جو اپنے داہنے ہاتھ سے صدقہ کرے اور اسے چھپائے اور تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور ہار جانے کے بعد پھر بھی دشمنوں کا مقابلہ کرے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ صحیح وہ روایت ہے جسے شعبہ وغیرہ نے «عن منصور عن ربعي بن حراش عن زيد بن ظبيان عن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ابوبکر بن عیاش بہت غلطیاں کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9199) (ضعیف) (سند میں ابوبکر بن عیاش سے بہت غلطیاں ہو جایا کرتی تھیں، یہاں انہوں نے ابو ذر رضی الله عنہ کی روایت کو ابن مسعود“ رضی الله عنہ کی روایت بنا ڈالی ہے، جیسا کہ مؤلف نے صراحت کی ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (1921 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2609) //
الحكم: ضعيف، المشكاة (1921 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2609) //
← پچھلی حدیث (2566) باب پر واپس اگلی حدیث (2568) →